رپورٹس بتاتی ہیں کہ ریاستہائے متحدہ کے انٹیلی جنس حکام اسرائیل کی جانب سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے لیے ایران کی مبینہ سازشوں کے بارے میں فراہم کردہ انتباہات کی تصدیق کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ یہ انتباہات، جن میں ممکنہ خطرات کے دعوے شامل تھے، امریکی انٹیلی جنس کے جائزوں سے ثابت نہیں ہو سکے۔ صورتحال میں پیچیدہ سیکیورٹی خدشات شامل ہیں، جس میں رپورٹس میں ڈیکوئے طیارے کی حکمت عملی اور ترکی سے خفیہ پرواز جیسے مخصوص واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسرائیلی ہم منصبوں کی جانب سے معلومات شیئر کیے جانے کے باوجود، امریکی ایجنسیاں فراہم کردہ مخصوص خطرے کی انٹیلی جنس پر کم اعتماد رکھتی تھیں۔ تصدیق کا نہ ہونا سیکیورٹی تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی مبصرین کے درمیان بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اگرچہ ایرانی شمولیت کے دعووں کو بڑے پیمانے پر تشہیر دی گئی، لیکن امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے ان مخصوص انتباہات کی تصدیق کرنے میں ناکامی بین الاقوامی سیکیورٹی خطرات کا اندازہ لگانے میں درپیش چیلنجوں کو اجاگر کرتی ہے۔ انتظامیہ نے ان غیر تصدیق شدہ انتباہات کی مخصوص نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں، جس سے یہ معاملہ انٹیلی جنس کمیونٹی کے اندر جاری جانچ پڑتال کا موضوع بنا ہوا ہے۔
پی ڈی ٹی وی صفحۂ اول پر واپس جائیں
امریکی انٹیلی جنس ٹرمپ کے خلاف ایرانی سازشوں سے متعلق اسرائیلی انتباہات کی تصدیق کرنے سے قاصر
امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں مبینہ طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے والی ایرانی سازشوں کے بارے میں اسرائیلی انتباہات کی تصدیق کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

نمائشی تصویر · The White House · Public domainتصویر کا ماخذ
خبر کی تصدیق اور ذرائع
پی ڈی ٹی وی حقائق کی آزادی سے تصدیق کر کے اپنی تحریر میں پیش کرتا ہے۔ یہ لنکس اس خبر کی جانچ کے لیے استعمال ہوئے:
