وزیراعظم شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اپنے آبی وسائل کو ایک ناقابلِ مذاکرات ریڈ لائن سمجھتا ہے۔ حالیہ بیانات کے دوران، وزیراعظم نے اشارہ دیا کہ اگر معاہدے کی پاسداری نہ کی گئی تو ملک براہ راست جواب دینے کے لیے تیار ہوگا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اپنی 80 ویں یوم آزادی کے قریب ہے، اور حکومت قوم کے لیے پانی کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کر رہی ہے۔ وزیراعظم کے ریمارکس اس مسئلے کی حساسیت کو اجاگر کرتے ہیں، کیونکہ حکام علاقائی پانی کے انتظام سے متعلق پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پانی کے ہر قطرے کو ریڈ لائن قرار دے کر، انتظامیہ موجودہ معاہدوں کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے خلاف قومی مفادات کے تحفظ پر سخت موقف اختیار کر رہی ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے کہ علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے اور ملک کے ضروری وسائل کے تحفظ کے لیے معاہدے کی شقوں کا احترام کیا جائے۔
پی ڈی ٹی وی صفحۂ اول پر واپس جائیں
وزیراعظم شریف نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انتباہ جاری کر دیا
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے آبی وسائل کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدے کا احترام نہ کیا گیا تو براہ راست جواب دیا جائے گا۔

نمائشی تصویر · NASA · Public domainتصویر کا ماخذ
خبر کی تصدیق اور ذرائع
پی ڈی ٹی وی حقائق کی آزادی سے تصدیق کر کے اپنی تحریر میں پیش کرتا ہے۔ یہ لنکس اس خبر کی جانچ کے لیے استعمال ہوئے:
