جمعہ، 14 اگست، 2026لائیو
پی ڈی ٹی وی صفحۂ اول پر واپس جائیں

پاکستان اور ناروے نے سیکیورٹی اور امیگریشن پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا

پاکستان اور ناروے نے دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی، پولیس کی تربیت اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

پاکستان اور ناروے نے سیکیورٹی اور امیگریشن پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا

نمائشی تصویر · Israel Belkind and Fanny Abramovitch (original) “The Provisional Council of State Proclamation of the Flag of the State of Israel” of 25 Tishrei 5709 (28 October 1948) provides the official specification for the design of the Israeli flag. The color of the Magen David and the stripes of the Israeli flag is not precisely specified by the above legislation. The color depicted in the current version of the image is typical of flags used in Israel today, although individual flags can and do vary. The flag legislation officially specifies dimensions of 220 cm × 160 cm. However, the sizes of actual flags vary (although the aspect ratio is usually retained). · Public domainتصویر کا ماخذ

پاکستان اور ناروے نے باضابطہ طور پر اپنی دوطرفہ شراکت داری کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں سیکیورٹی اور امیگریشن کے انتظام پر بنیادی توجہ دی گئی ہے۔ اس تعاون کا مقصد انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو مضبوط بنانا اور مشترکہ مہارت کے ذریعے پولیس کی تربیت کے پروٹوکول کو بہتر بنانا ہے۔ مزید برآں، دونوں ممالک نے غیر قانونی امیگریشن سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کیا ہے۔ یہ معاہدہ سفارتی تعلقات میں ایک اہم قدم ہے، جو استحکام اور سیکیورٹی کو بڑھانے کی باہمی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام نے ان بین الاقوامی مسائل سے نمٹنے کے لیے اس شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا جو دونوں خطوں کو متاثر کرتے ہیں۔ سیکیورٹی اور امیگریشن پر اپنی حکمت عملیوں کو ہم آہنگ کر کے، پاکستان اور ناروے تعاون کے لیے ایک زیادہ منظم ڈھانچہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان بہتر مواصلات اور وسائل کے تبادلے میں سہولت متوقع ہے، جو بالآخر سرحدوں کے بہتر انتظام اور علاقائی سیکیورٹی میں معاون ثابت ہوگی۔

خبر کی تصدیق اور ذرائع

پی ڈی ٹی وی حقائق کی آزادی سے تصدیق کر کے اپنی تحریر میں پیش کرتا ہے۔ یہ لنکس اس خبر کی جانچ کے لیے استعمال ہوئے: